سید ابوالاعلیٰ مودودی
تری فکر رسا نے خاک کے ذروں کو چمکایا
کہ تو سچ مچ فلک سے چاند تارے توڑ کر لایا
سبق تبلیغ دین حق کا اس خوبی سے دہرایا
غریبوں کو بھی دعوت دی،امیروں کو بھی سمجھایا
وہ شدت قیدِ تنہائی کی، وہ گرمی، وہ تاریکی
مگر اس پر بھی تیرا غنچہء خاطر نہ مرجھایا
تری فطرت میں ہے سنجیدگی بھی، استقامت بھی
مسرت میں نہ اترایا، مصائب میں نہ گھبرایا
جہاں جس کی ضرورت تھی وہی تدبیر کی تو نے
کبھی کشتی کو جنبش دی، کہیں موجوں کو ٹھرایا
تری تحریر کا ہر لفظ خود روشن شہادت ہے
کہ تو نے کس قدر دشوار تر عقدوں کو سلجھایا
ترے انفاس میں خوشبو ہے گلہائے شریعت کی
کہ جس نے محفلیں کیا، قید خانوں کو بھی مہکایا
بہ ہر عنوان نادانوں نے تجھ پر تہمتیں جوڑیں
تری تحریر کو الٹا، تری باتوں کو الجھایا
وہاں خود دعوتِ حق لے کے تیرے خوشہ چیں پہنچے
جہاں کچھ روشنی دیکھی جہاں سوزِ جگر پایا
ترے دل کا سفینہ کیا سکوں ناآشنا نکلا
کبھی طوفان سے الجھا، کبھی ساحل سے ٹکرایا
تری تقریر پر اردو زباں صد آفریں بولی
نگارش پر تری حسنِ ادب نے ناز فرمایا
ترے سود و زیاں کا ہے رضائے دوست پیمانہ
کہ تو نے ہر قدم پر عشرتِ باطل کو ٹھکرایا
حماک اللہ! دماغوں کو عطا کی فکر قرآنی
جزاک اللہ!دلوں کو سوزِ ایمانی سے گرمایا
فسردہ ہو نہیں سکتے کسی سے دب کر
وہ شعلے جن کو تیری جنبشِ دامن نے بھڑکایا
ترے دل پر رہے پرتو فگن سیرت محمدؐ کی
ترے افکار پر ہر آن ہو قرآن کا سایا
یقیناً اس تری جرات کو دنیا یاد رکھے گی
سزائے موت سن کر بھی نہ پیشانی پہ بل آیا
ماہرؔ القادری