استاد طالب علم کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے
کہا جاتا ہے کہ استاد وہ ہستی ہے جو ایک انسان کو فرش سے عرش تک لے جاتا ہے
انسانی معاشرے میں استاد کا مقام ایک معمار کی طرح ہوتا ہے ، اور کسی انسان کا استاد بننا بہت بڑے اعزاز کی بات ہے تعلیم و تربیت کے فریضہ کو انجام دینا پیغمبرانہ عمل ہے ۔ اور وہ لوگ کس قدر خوش قسمت ہوتے ہیں جو اس منصب پر فائز ہوتے ہیں اور اپنا فریضہ بڑی ایمان داری اور مشن سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔
استاد کو ایک باپ کی مانند قرار دیا گیا ہے مگر کچھ اساتذہ نے باپ کے مقام سے بھی بڑھ کر اپنے شاگردوں کی راہنمائی کی ھے میرے سب اساتذہ قابل فخر ہیں مجھے اپنے سب اساتذہ پہ فخر ھے پہلی جماعت سے پانچویں جماعت تک پڑھانے والے استاد محترم محمدابراھیم خان قیصرانی محمد کامل خان بزدار سے لیکر مولانا گوہر رحمان تک سب اساتذہ عظیم تھے ۔
مولانا گوہر رحمان رحمہ اللہ فاضل دیوبند تھے ان کے متعلق کہا جاسکتا ھے یہ قرون اولی کے بزرگوں میں سے تھے الراسخون فی العلم دراصل یہی لوگ تھے قرآن حدیث فقہ تاریخ کے علم میں ان جیسے عالم باعمل بہت ھی کم گزرے ہیں 1990 میں انہوں نے آخری مرتبہ منصورہ لاھور میں دورہ تفسیر القرآن پڑھایا میں میٹرک کا امتحان دیکر فارغ تھا ھفت روزہ ایشیا میں ان کے متعلق پڑھا کہ وہ آخری مرتبہ دورہ تفسیر پڑھانے آرھے ہیں پھر وہ مردان اپنے مدرسہ تفھیم القرآن میں پڑھائیں گے مجھے بچپن سے قرآن پڑھنے اور اس کے معنی سمجھنے کا شوق تھا اپنا شوق پورا کرنے لاھور منصورہ پہنچ گیا دورہ تفسیر کی کلاس میں مجھے داخلہ نہیں مل رھا تھا میری عمر کم تھی اور عربی علوم سے بھی واقفیت زیادہ نہ تھی چنانچہ اپنے بزرگ مولانا عبد اللطیف رحمہ اللہ کی سفارش کرائی تو پھر مولانا فتح محمد رحمہ اللہ نے داخلہ فارم عنایت فرمایا اسے فل کرکے جمع کروادیا دوسرے روز تقریبا دورہ تفسیر کے400 طلبہ کو داخلہ کارڈ مل گئے 15 شعبان سے 27 رمضان المبارک تک میں نے مولانا گوہر رحمان صاحب سے قرآن کریم کا ترجمہ تفسیر پڑھی واقعی وہ علم کا سمندر تھے شیخ القرآن و الحدیث تھے ان کا حافظہ غیر معمولی تھا آپ 40 سال تک بخآری شریف پڑھاتے رھے ہرسال قرآن کریم کو سمجھانے کےلئے رمضان المبارک میں دورہ تفسیر کی کلاس کا اہتمام کراتے قرآن کریم کی روشنی پھیلاتے ۔
مولانا صاحب قرآن کریم کی تفسیر کو بڑی حکمت تدبر کے ساتھ پڑھاتے ائمہ اربع کے فقہی اصول اور مفسرین کے حوالے ازبر تھے مفسرین کے اختلاف پہ بحث کے قائیل نہیں تھے قرآن کریم کی آیات کا شان نزول حدیث سے لیتے سب احادیث انہیں زبانی یاد تھیں ۔
مولانا رحمہ اللہ مزاجا سخت مزاج تھے ان کا غصہ والا چہرہ اب بھی یاد اتا ھے رعب دبدبہ بھی شاندار تھا وہ بہت ھی قابل اور ذھین انسان تھے پارلیمنٹ کے رکن بنے جماعت اسلامی پاکستان صوبہ سرحد کے کئی سال تک امیر رھے درجنوں کتابیں تصنیف کیں
یوم اساتذہ پہ اپنے استاد مولانا گوہر رحمان رحمہ اللہ کو خراج تحسین اللہ پاک انکی کامل مغفرت فرمائے اور جنت کا مکین اور حضور نبی کریم کی محفل نصیب فرمائے ۔ آمین
حافظ محمد حسین
تونسہ شریف
0