0

چین کی ترقی اور پاکستان کی تنزلی

چین 1954میں آزاد ھوا چینی قوم نے محنت کی دس ھزار ڈیم بنائے بجلی فری کردی جدید ٹکنالوجی سے اپنے ملک کا دفاع مضبوط بنایا زراعت میں نئی نئی تحقیق کرکے زراعت کو ترقی کی معراج پہ لے گیئے میڈیکل کی تحقیق پہ اسکی یونیورسٹیاں دنیا میں نمایاں مقام رکھتی ہیں جس جس شعبہ زندگی پہ توجہ دی اسے عروج دیا بالآخر اس نے غربت پہ بھی قابو پالیا ھے ۔
پاکستان 1947 میں آزاد ھوا جو حکمران آئے وہ اپنی ذاتی تجوریاں بھرتے رھے ڈاکو بن کر اس کے وسائل اپنے نام منتقل کرتے رھے اپنے لئے کمایا اپنے آپ کو مضبوط بنایا ملک و قوم کا خون چوسا ۔ آج پاکستان کو جب پیچھے موڑ کر دیکھتا ھوں تو 75 سالوں میں لوٹ گھسوت نظر آتی ھے ڈیم نظر نہیں آتے زرعی تحقیق کےلئے کالج یونیورسٹیاں نظر نہیں آتیں جدید ٹیکنالوجی سے ملک کادفاع مضبوط کرنے والے ھیرو کی عزت قدر شان شوکت جو ھوئی اسے لکھتے ھوئے شرم آتی ھےاس قوم کی کمائی سے سرے محل خریدے گیئے جزیرے خریدے گیئے لندن دوبئی محلات بنائے گیئے اربوں ڈالر پانامہ منتقل کیئے گیئے گوگیوں ایان علیوں کے ذریعے کروڑوں ڈالر باہر نکال کر لے گیئے بچے کھچے پیارے وطن میں بجلی 46 روپے یونٹ تک پہنچ گئی ھے پٹرول ڈیزل غریب کی پہنچ سے دور ھورھا ھے غریب علاج نہیں کرا سکتا سسک سسک کر مرجاتا ھے تعلیم کے دروازے غریبوں کےلئے بند ھورھے ہیں ملازمتوں پہ جج جرنیل بیروکریٹوں سیاستدانوں کا قبضہ ہے غریب کا باصلاحیت بچہ ڈگریاں لئے مارا مارا پھرتا ھے صنعتیں تباہ ھو گئی ہیں زراعت کا جنازہ نکل گیا قانون انصاف کہیں نظر نہیں آتا
انتقام کی سیاست عروج پہ ھے نفرت کی فصل لہلہاتی نظر آرھی ھے ملک میں کوئی محفوظ نہیں مسافر مارے جاتے ہیں نمازی بموں میں اڑا دیئے جاتے ہیں سکول کے معصوم بچوں کو بھی معاف نہیں کیاگیا ھم نے 75 سالوں میں نہ ڈیم بنائے نہ سیلابوں پہ قابو پا سکے اور نہ زراعت پہ توجہ دی اور نہ میڈیکل کی تعلیم میں عروج پایا نہ جدید ٹکنالوجی میں ترقی پائی کیا کھویا ھے کیا پایا ھے آپ بھی لکھیں
حسین تونسوی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں